Wednesday, July 25, 2018

عام انتخابات 2018ء میں دھاندلی کا پہلا الزام

Tags

عام انتخابات 2018ء کے لیے ملک بھر میں صبح آٹھ بجے سے پولنگ کا عمل جاری ہے جو شام 6 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ ایک جانب جہاں ملک بھر میں ووٹ کاسٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں ان انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کا پہلا الزام بھی سامنے آ گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2018ء میں دھاندلی سے متعلق پی ٹی آئی کا پہلا الزام سامنے آ گیا ۔ پی ٹی آئی رہنما ابرار الحق نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال پر دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ ابرارالحق نے کہا کہ پریذائیڈنگ افسر سے شیر کی مہر والے بیلٹ پیپرز پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے بروقت پہنچ کر دھاندلی کا پہلا لیگی منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ابرار الحق نے کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ نارروال میں جعلی ارسطو صاحب یعنی احسن اقبال نے دھاندلی کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔ انبھی تھوڑی دیر قبل بدوچیدہ ایک گاؤں ہے وہاں کی پریزائیڈنگ افسر صاحبہ کے پاس شیر کی مہر والے بیلٹ پیپرز کی پانچ کاپیاں موجود تھیں، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ بیلٹ پیپرز پکڑے گئے ہیں۔ ابرارالحق نے کہا کہ پولیس ان کو چھُڑوانے کی کوشش کر رہی ہے اور ن لیگ کے وائس چئیرمین کے ڈیرے پر موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایسا ہو رہا ہے کیونکہ یہ الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئیے تھا۔ لیکن الیکشن کی شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جا رہا ،یہ سراسر ناقابل قبول ہے، ان افسران کو تبدیل ہونا چاہئیے کیونکہ ہم 2013ء کی طرز پر الیکشن نہیں کروانا چاہتے۔ 2013ء میں یہ اطلاعات تھیں کہ پریزائیڈنگ افسران کو خرید لیا گیا ہے، پولیس خرید لی گئی ہے انتظامیہ خرید لی گئی ہے۔ اپنی ویڈیو میں ابرارالحق نے اس معاملے پر سخت ایکشن لینے اور کارروائی کرنےکا مطالبہ کیا


EmoticonEmoticon